تازے کھلے ہیں داغ کے گل ، دل کے باغ میں
پھر موسم بہار ہوا ، کیا بجا ہوا
خواہ کوئی مضمون ہو ؛ موسم بہار یا خزاں یا وضع طرح ، تراش خراش ۔
(۱۸۹۱ ، محاسن الاخلاق ، ۴۴۸) ۔
پہاڑ کی ڈھلانوں میں خچروں کے ساتھ ہل چلاتے ہوئے وہ بھی موسم بہار کی دھوپ میں ان کے چہرے کا رنگ ایسا ہوجاتا ہے ۔
(۲۰۰۰ ، قومی زبان ، کراچی ، مارچ ، ۶۳)
دل کی کلی اپنی شگفتگی کے لیے جس موسم بہار کا انتظار کر رہی تھی وہ ہنوز نگاہوں سے دور تھا ۔
(۱۹۲۳ ، سیرۃ النبیؐ ، ۳ : ۵۴۰) ۔