شرحِ ہنگامہء ہستی ہے ؛ زہے! موسم ِگل
رہبر قطرہ بہ دریا ہے ؛ خوشا! موجِ شراب
موسم ِگل میں صبا کو جو ہوئی ناچ کی دھن
لحن ِبلبل سے بھی پیدا ہوئی کھماچ کی دھن
موسم گل نے بھی دل کو زخم پہنچائے بہت
پھول جب شاخوں پہ دیکھے ، آپ یاد آئے بہت
(۱۹۹۱ ، متاع عزیز ، ۵۲) ۔