دن رات بہار ، موسم گرما ۔۔۔۔۔ ایک دوسرے کے بعد واقع ہوتے ہیں ، صرف زمین کی ایک سادہ حرکت سے ۔
(۱۹۱۷ ، رسائل کے دفینوں سے اردو ادب کی بازیافت ، العصر ، ۲ : ۴۹۳) ۔
۔ موسم گرما کی بارش اور صبح کی شبنم کے موتی کے سوا کوئی منظر فطرت نہیں ۔
(۱۹۸۵ ، اقبال کا نظام فن ، ۳۲۸) ۔
ایران گئے تو موسم گرما کی تعطیلات میں حج کا قصد کیا ۔
(۱۹۹۶ ، حضور احمد سلیم ، ایک مطالعہ ، ۲۴) ۔