ہر وقت لب گور سے دیتی ہے صدا خاک
سمجھے رہیں آپ کو سلطان وگدا خاک
جب کھا چکو تو آپ آپ کو چل دو.
(۱۸۹۵ ، ترجمۂ قرآن ، نذیر ، ۶۷۹)
ہر ایک آپ آپ کو بھاگا بھاگا پھرتا ہے.
(۱۹۰۵ ، رسوم دہلی ، سید احمد ، ۶۵)
آپ آپ کو لڑی مرتی ہیں.
(۱۹۲۴ ، نوراللغات ، ۱ : ۵۴)
