عورت جو ہو پری کی شکل ارس کو پھر سنگار
کیا چاہیے وہ آپ سے لیلیٰ ہے ہیر ہے
میں تو جاتا ہی آپ سے لیکن
تیرے کہنے سے اب نہیں جاتا
کوئی مرتا ہے کسی پر آپ سے
دل جو قابو میں نہو تو کی کرے
دوستی کا غیر کی کیا ذکر اس دل میں کہ دوست
آشنائی میں تری ہیں آپ سے بیگانہ ہم
پھر اک سجدۂ توبہ کی آرزو ہے
تجھے آپ سے پھر خفا چاہتا ہوں
مقسوم کا جو ہے سو وہ پہنچے گا آپ سے
پھیلائیے نہ ہاتھ نہ دامن پساریے
آپ سے لوگ اب کہاں ہیں.
(۱۸۹۱ ، امیر اللغات ، ۱ : ۴۱).
