میرا آدمی نہ ملے تو جس گاڑی بان سے کہو گے لے آئے گا.
(۱۸۷۹ ، مکاتیب سرسید احمد خاں ، ۱ : ۱۴۵) .
ان کے قریبی دوست حامد سعید خاں ساحل کے گاڑی بان لکشمن اور ایک گوجر کے لڑکے بجرنگ لال کے علاوہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ اس موذی مرض میں مبتلا ہیں.
(۱۹۷۶ ، اختر شیرانی اور جدید اردو ادب ، ۵۵) .
یہ بھاری چھکڑا آہستہ آہستہ آگے بڑھتا اس کے گھوڑے تھکے ماندے ہوتے اور اس کے گاڑی بان کے کندھے بھی تھکن سے جھکے ہوتے.
(۱۹۹۲ ، قومی زبان ، کراچی ، مارچ ، ۷۲) .