بس اتنے کھلونے کافی ہیں ، کیا کھلونوں کو کھاؤ گے جو یہ گاڑی بھر کھلونے خرید رہے ہو.
(۱۹۳۳ ، زندگی ، ۳۰۱) .
تو ناج پھٹکنے کے لیے تجھے گاڑی بھر راستہ چاہیے ، چل ہتا سب چیز.
(۱۹۶۷ ، جلا وطن ، ۵) .
گھر پر گاڑی بھر ہوم ورک لائیں اور پھر اردو بھی پڑھیں.
(۱۹۸۸ ، نگار ، کراچی ، اکتوبر ، ۱۲) .