باورچی گری اور خدمت گاری کرتے تھے ، مشکیں اٹھاتے تھے ، گاڑیاں ہانکتے تھے.
(۱۸۹۹ ، مقالاتِ حالی ، ۲ : ۴۴) .
نصیر نے جلدی جلدی گاڑیوں پر بھوسہ لدوا کر انہیں گاؤں کی طرف تیز ہنکوا دیا.
(۱۹۵۴ ، شاید کہ بہار آئی ، ۹۷) .
ارے بابا ، دنیا میں دو ہی چیزیں تو ہانکی جاتی ہیں یا گپ یا گاڑی تم کس کی بات کر رہی تھیں.
(۱۹۸۷ ، ساتواں پھیرا ، ۸۹) .
ایک شخص جو سرسید کے کاموں کا صرف مددگار ہی نہ تھا بلکہ اس گاڑی کے ہانکنے میں گویا برابر کی جوڑ تھا.
(۱۸۹۹ ، حیات جاوید ، ۲ : ۳۱۹) .