دسترخوان بچھایا اور عمدہ عمدہ کھانا چُنا اور ان کو کِھلایا.
(۱۸۷۳ ، مطلع العجائب (ترجمہ) ، ۲۲۲)
اتنے میں ملازم نے کھانا چُننا شروع کیا کھانے کی میز اسی حال میں تھی.
(۱۹۶۰ ، سر سید احمد خان ، ۲۸)
تھوڑی دیر میں نفیسہ نے کھانا چُن دیا.
(۱۹۸۶ ، سہ حدّہ ، ۸۰)