شہانی تیری نوجوانی اچھو
تجے نوجوانی شہانی اچھو
نزاکت حسن و دولت ہے منگے جاہی کرن سکتا
نوایوں نوجوانی سوں سکل شاہی کرن سکتا
گھر کے گھر ہوئی شادمانی نوی
زمانے کوں پھر نوجوانی ہوئی
اُف یہ عہد نوجوانی اور یہ بارِ الم
اُف یہ نازک دل میرا اور کاوش خارِ الم
ضعف کو نوجوانیوں کا غرور
آبگینوں سے تھیں چٹانیں چور
اکبر کا انتقال نوجوانی میں ہو گیا تھا ۔
(۲۰۰۳ ، پس منظر ، ۴۵)
[ نوجوان + ی ، لاحقہء کیفیت ]
