ایسا ہی نو دولتوں کا احسان اور رعایت اور انعامات اور مروت ہے ۔
(۱۷۴۶ ، قصہء مہر افروز و دلبر ، ۳۶۴) ۔
ایک تھا میں نو دولت امیر
اوسکے پاس آیا حکیم اے بے نظیر
میری نصیحت نے نہ اس نو دولت کو اثر کیا نہ ارکان دولت نے میرے حق کو سمجھا ۔
(۱۸۸۴ ، قصص ہند ، ۲ : ۸) ۔
صفاریہ نو دولت اور کم اصل تھے ۔
(۱۹۰۷ ، شعر العجم ، ۱ : ۲۵) ۔
ہو رہا ہے ایشیا کا خرقہء دیرینہ چاک
نوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پیرایہ پوش
پھر یورپ کی دوسری قومیں جو نسبتا ً نو دولت تھیں ۔
(۱۹۸۵ ، اقبال کا نظام فن ، ۴۰۰) ۔
[ نو + دولت (رک) ]
