مُلّا ہے خدمت گار تل ، دھن مکَّھ کی مسجید میں
پلکاں بتیاں کاجل دھواں ، دیتا اہے لوبن چراغ
دونوں ابرو دُھواں عجب گردن
ساری نکھ سکھ درست چال پری
چلا ہے بن کے کہاں شوخ اس پھبن سے دھواں
کہ جائے آہ نِکلتا ہے یہاں دہن سے دُھن٘واں
انشا کی گفتگو وہ دھنواں گرم ہے کہ آج
آکر بہار اوس کے گلے سے لِپٹ گئی