انجمن انجم برخاست ہوئے ماہ کا منہ سفید ہوا شمع لگن میں جھلملانے لگی
(۱۸۶۲ ، شبستان سرور ، ۳ : ۷۵)
جب شہرزاد صوفی دلریش کی داستان ختم کر چکی تو شمع جھلملا رہی تھی
(۱۹۲۶ ، شہید مغرب ، ۷۸)
میں نے محسوس کیا کہ میرے دل کے طاق میں جلتی ہوئی شمع جھلملا رہی ہے
(۱۹۷۸ ، ابراہیم جلیس ، الٹی قبر ، ۱۸۴)