بام و در بھی پھک رہے تھے اس بلا کی تھی تپش
شمعِ محفل آپ کی تھی اور پروانہ مرا
چالیس سے گزر چکا ہے مگر بچوں میں بچہ اور بڈھوں میں بڈھا ہے اور جہاں جاتا ہے وہاں یہ اللہ کا بندہ شمع محفل بن جاتا ہے
(۱۹۴۷ ، فرحت ، مضامین ، ۷ : ۳۳)
مغینہ اور سامعین ، محفل اور شمع محفل پر یہ والہانہ کیفیت شاید ہی کبھی دیکھنے میں آئی ہو
(۱۹۸۶ ، فیضانِ فیض ، ۱۱)