عرق کے جوش سے رخسار پر نور
گہر ریزاں برنگِ شمع کافور
کیا یہ سوختہ جاں تو نے مجھکو سرد مہری سے
کہ آہِ سرد مہری شمعِ کافوری سے ہمسر ہو
شمع کافوری جھلملا کر صحبت شب کو الوداع کر چکی تھی
(۱۹۱۲ ، شہید مغرب ، ۱۸)
اس سلسلے میں صرف اتنی تبدیلی ہوئی کہ جیسے برنجی چراغ اور پھر شمع کافوری اور شمع مومی نے مٹی کے چراغ کی جگہ لے لی تھی
(۱۹۶۴ ، پاکستانی کلچر ، ۲۰۵)