ستارے شمع داناں کرالا وہ شور کاتس پر
ثریا کے قندیلاں بھر چندر ماتم بنایا ہے
کوئی سل کوئی سل کے پتھر کو لے
کوئی شمعداں کوئی گُل گیر کو لے
طلائی شمع دانوں پر کافوری شمعیں چڑھی ہیں
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۳۵)
پروانوں کے پرلگن میں شمعدانوں کے ڈھیر تھے
(۱۸۸۲ ، طلسم ہوش ربا ، ۱ : ۶۳۴)
جدھر جدھر سے بھی گزارا جلوسِ رسوائی
کھڑے تھے لوگ دریچوں میں شمعداں کی طرح