الفارابی نے اس کے لئے خیر محض کا نام تجویز کیا ابن سینا نے نورالانوار ۔
(۱۹۵۹ ، مقدمہء تاریخ سائنس (ترجمہ) ، ۱ ، ۲ : ۸۶۳)
نور الانوار :۔ اس سے مراد ذات واجب ہے ۔
(۱۹۲۱ ، مصباح التعرف ، ۲۶۴)
نور مدبر ۔۔۔۔۔ نوری حجابوں کو دیکھتا ہے بالنسبتہ جلال نور محیط کے جو قیوم اور نور الانوار ہے ۔
(۱۹۲۵ ، حکمۃ الاشراق ، ۴۵۰)
[ نور + رک : ال (۱) + انوار ( نور (رک) کی جمع)]
