ان موقعوں پر عقل ان پُرزور مخالفوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی بلکہ ایک دوسری قوت ہے جو سینہ سپر ہوتی ہے اور انسان کو اُن دشمنوں کے حملے سے بچاتی ہے اس قوت کا نام نورِ ایمان ، کا نشنس ، حاسہء اخلاقی ہے ۔
(۱۹۰۶ ، الکلام ، ۲ : ۱۸)
اس میں نورِ ایمان اور ظلمت کفر کو بڑی تفصیلی مثال سے سمجھایا گیا ہے ۔
(۱۹۷۱ ، معارف القرآن ، ۶ : ۴۶۰)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کی آمد پر یہاں کے لوگوں کے دل ایمان سے معمور اور ان کے ذہن نورِ ایمان سے روشن تھے ۔
(۱۹۹۶ ، صحیفہ ، لاہور ، اپریل تا جون ، ۵۳)
[نور + ایمان (رک)]
