ایک نور پاش خراماں پیکر آتش ۔۔۔۔۔ مجھ میں اپنے اشارہ مبہم سے ایک انجذاب مضطر پیدا کر رہی ہے ۔
(۱۹۳۱ ، انشائے ماجد یا لطائف ادب ، ۱۸۷)
ان کی نیکی آفتاب کی طرح ہر طرف نورپاش ہوتی ہے ۔
(۱۹۵۸ ، نفسیات واردات روحانی ، ۵۵۵)
سر پر کلپاک کے قسم کی ٹوپی جس پر ہلال نور پاش تھا ۔
(۱۹۸۵ ، حیات جوہر ، ۳۸۰)
[ نور + ف : پاش ، پاشیدن = بکھیرنا]
