ہے گرم نور پاشی کا بازار سینے میں
تابندہ کوہِ طور کہ ہے تار سینے میں
آفتاب ۔۔۔۔۔ اپنی صحت بخش نور پاشی سے دنیا کا کاروبار چلانے میں ناگزیر مدد دیتا ہے ۔
(۱۹۸۶ ، سید الطاف علی بریلوی ؛ یادیں اور باتیں ، ۱۵۹)
ہم اس ذات بسیط و لامتناہی کے حضور کھڑے ہوتے ہیں جو روح کی گہرائیوں میں سے نور پاشی کرتی ہے ۔
(۱۹۹۱ ، سرگزشت فلسفہ ، ۲ : ۴۱)
[نور پاش + ی ، لاحقہء کیفیت]
