سطر سطر پر برستا ہے نور ، ہر یک بول ہے یک حور ۔
(۱۶۳۵ ، سب رس ، ۱۳) ۔
سینہ و دل صفا سے سب معمور
ذکر حق لب پہ سر پہ برسے نور
شب تاریک ہے اور نور گلیوں میں برستا ہے ہوا ثابت یہی کاشانہء جاناں کا رستا ہے
(۱۸۳۱ ، ناسخ (مہذب اللغات))
مصفا تھی آئینہ سے بیشتر برستا تھا نور اون پہ آٹھوں پہر
(۱۸۹۳ ، صدق البیان ، ۱۹۱) ۔
وفور جلوۂ گل سے برس رہا ہے یہ نور
نگاہیں کیف میں ڈوبی ہیں دل ہیں مست سرور
ابھی آپ نے پوچھا تھا کیا وہاں کوئی نور برستا ہے ۔
(۲۰۰۱ ، آئس لینڈ ، ۱۵۹) ۔
جس وقت آپ ہیٹ لگا کر چلتے ہیں تو چہرے پر چھاجوں نور برستا ہے ۔
(۱۹۳۶ ، عروس ادب ، ۷۷)
سامنے گارشیا کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ اس کے چہرے پر نور برس رہاتھا ۔
(۱۹۸۹ ، امریکانو ، ۳۰۰)
