ایک سو ایک کشتی جواہر اور اشرفی اور پشمینہ اور نوربافی اور ریشمی اور طلا بافی اور زردوزی کی لگا رکھی تھی ۔
(۱۸۰۲ ، باغ و بہار ، ۹۴)
بنارس میں نوربافی اور بریلی میں نجاری کے اسکول بھی بہت جلد جاری ہوں گے ۔
(۱۹۱۰ ، ادیب ، دسمبر ، ۲۷۸)
’’شیخ جھاؤ‘‘ کی زندگی نوربافی کرتے کرتے ختم ہوگئی ۔
(۱۹۳۱ ، انشائے ماجد یا لطائف ادب ، ۱۴۴)
یہ ٹیکس نوربافی کے مال اور ذبح ہونے والے جانوروں پر لگایا جاتا تھا ۔
(۱۹۶۸ ، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ ، ۳ : ۸۵۱)
[نور باف + ی ، لاحقہء کیفیت]
