دانتوں میں خس ہراس سے تھی ہر جوان
چادر ہلا رہے تھے پھر ہرے نشان کے
افسروں نے چادریں ہلائیں ، پکار کر کہا کہ اے شہر یار الامان .
( ۱۹۰۰ ، طلسم خیال سکندری ، ۲ : ۳۲۱ ) .
اٹھا ہے یہ رندوں کا دود فغاں
ہلاتی ہے چادر گھٹا الاماں
آج میرے بھائی ... کے بیٹے ... نے چادر ہلائی اور قوم کو پکارا .
( ۱۹۲۷ ، کائنات بیتی ، ۳۸ ) .