کس سوں ولی اپس کا احوال جا کہوں میں
سر تا قدم ہیں غم سوں غم خانہ ہو رہا ہوں
میرے غم خانے کی قسمت جبِ رقم ہو نے لگی
لکھ دیا منجملہ اسبابِ ویرانی مجھے
دفعۃً یارب تصّور میں مرے کون آگیا
اپنے غم کانے سے کیوں اتنا میں گھبرا کر اٹھا
قفس کی تیلیوں میں آشیاں معلوم ہوتا ہے
یہ غم خانہ بھی مجھ کو گلستان معلوم ہوتا ہے
[ غم + کانہ ( رک ) ] .
