مگر غم زدہ وفلک کے اوپر
جودیکھیا کھولیا بخت کا اپنے در
حال مجھ غمزدے کا جس تس نے
جب سنا ہوگا رو دیا ہو گا
غم زدے تیری جدائی کا جوغم کرتے ہیں
مسکراتے بھی نہیں پھر کبھی گریاں ہوکر
میر غمزدہ بیوی جس کا نازک دل بہت سے صدموں سے ٹوٹ چکا تھا بہت زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکی .
(۱۹۲۲ ، باپ کا گناہ ، ۲۸۹ ) .
میں ستایا ہوں بوکھلایا ہوا ہوں ، رنجیدہ ہوں غمگین ہوں ، غمزدہ ہوں .
(۱۹۸۰ ، پرواز ، ۳۸ ) .
[ غم + ف : زدہ ، زدن - مارنا ] .
