خدا نے دی ہے لذّت غم خوری کی کوش مذاقوں کو
لہو کے گھونٹ پینے میں مزا ملتا ہے شربت کا
وہ تمہاری بڑی بہن اگرتم ان کو دو باتوں کی غم خوری کرو گی تو کیا چھوٹے باپ کی بیٹی ہوجاؤ گی .
(۱۹۱۱ ، قصۂ مہر افروز ، ۳۸ ) .
جہاں تم میں سب خوبیاں ہیں اگرغم خوری کی بھی عادت ہوتی تو تم دنیا کے بہترین انسان ہوتے .
(۱۹۸۷ ، مہذب اللغات ، ۸ : ۳۰۱ ) .
[ غم خور ( رک ) + ی ، لاحقۂ کیفیت ].
