جام و مینا و سبو سے تو بُجھی اپنی نہ پیاس
ہم نے ساقی من٘ھ سے اب بھر کر لگائی گول ہے
یکایک حضور والا نے ایک گول دریا میں دیکھی جو ڈوبتی اچھلتی پانی میں چلی جاتی تھی.
(۱۹۳۳، فراق دہلوی ، لال قلعہ کی ایک جھلک ، ۸۶).
یہ صراحی ہے یہ ججّھر ہے یہ مٹکا یہ گول
یہ ہے صحنک یہ سبو بہرِ شراب و روغن
طرح طرح کے پتنگ بنے ، گول ، دوپنا ، ماہی جال ، مانگدار ، بھیڑیا ، طوقیہ ، خربوزیہ ، لنگوٹیہ ، چپ ، تکّل ، کنکیّا ، سفید ، للپتّا ، کلپتّا.
(۱۸۸۰، فسانۂ آزاد ، ۱۴۱:۴).