گول مٹول کندھے ، پھدکتا سا قد ، دھاڑتا ہوا سینہ ، بازوؤں کی مچھلیاں وہ تنی جکڑی کہ ہونٹوں سے رال پھسلی پڑے.
(۱۹۴۷، قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے ، ۴۷).
میں پہلے بھی کئی بار بابا کو بڑ کے درخت کے نیچے آلتی پالتی مار کر بیٹھے اور گول مٹول باوا قسم کے لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ چکا تھا.
(۱۹۸۹، سمندر اگر میرے اندر گرے، ۸۰).
ان میں سب شاعروں کے رویے ایک دوسرے سے مماثل اور گول مٹول قسم کے ہیں.
(۱۹۸۳، مذاکرات ، ۱۰۱).