ان حضرات مشائخ نے ایسا گول مال لگایا ہے کہ اسلام کے سارے فخر کو ملیا میٹ کر دیا.
(۱۸۹۹، رویائے صادقہ، ۱۶۸).
یہ تو بڑا گول مال ہوا جاتا ہے سب چیزیں تم نے بے ترتیب رکھدی ہیں.
یہ سب کیا گول مال ہے جو تم کرنے والے ہو.
(۱۹۶۹، افسانہ کر دیا، ۲۴۲).
گیان شنکر نے کاغذات دیکھے تو انہیں بڑا گول مال دکھائی دیا.
(۱۹۲۲، گوشۂ عافیت ، ۳۰۱:۱).
ہم نے کہا ظلم چل رہا ہے ، اسلحہ چل رہا ہے ڈکیتی اور اغوا چل رہا ہے، جھوٹ اور فراڈ چل رہا ہے گول مال چل رہا ہے.
(۱۹۹۱، افکار، کراچی، ستمبر، ۵۷).