مونھ دیکھو ماہ کا کہ وو نقشا تیرا سا لائے
صورت خدا نے اوس کو بھی ایک گول مول دی
خود اس کے چرخ پر چڑھ کر گول مول ہو جاتے ہیں .
(۱۸۷۵، جغرافیۂ طبعی ، ۷۱:۱)
اُس گول مول لوتھڑے پر جس کی نہ کچھ شکل تھی نہ صورت ، مادہ لکھا ہوا تھا.
(۱۹۰۹، مقالاتِ ناصری، ۳۴۵).
میں جو گول مول کرکے کاغذات کا بنڈل لے گیا تھا اس کو انہوں نے دیکھا.
(۱۹۸۹، افکار ، کراچی ، اگست ، ۱۹).
ایک جوان سی گول مول لڑکی بند پرنل سے پانی کا گھڑا بھر کے ایک دو منزلہ مکان نچلے دروازے سے اندر جا رہی تھی .
(۱۹۴۶، آگ ، ۱۸۵).
بات پھر بھی گول مول ہی رہی.
(۱۸۱۳، اُم الائمہ ، ۷۴).
ایسی گول مول بات کا نتیجہ یہ ہوگا کہ رہا سہا اطمینان بھی جاتا رہے گا.
(۱۹۱۲، سی پارۂ دل ، ۳:۱).
لالی نے گول مول جواب دیا سوچا اسی رستے سے چلا جاؤں.
(۱۹۸۶، جانگلوس، ۲۲۷).
تاشے نہ شادیانے کے بجتے کہیں نہ ڈھول
مخبوط بدحواس پریشان گول مول