ایک جا آیا شتر قد گھر گیا
واں شتر غمزہ سا مجھ سے کر گیا
باوا باوا کہتی ہوئی شتر غمزے سے گردن مبارک میں ہاتھ ڈال قلادے کی طرح لٹکنے لگی.
(۱۸۴۵، نغمۂ عندلیب، ۵۳).
غور سے انہوں نے محمود علی کی طرف دیکھا اور شُتر غمزہ کرتے ہوئے اس کی طرف لپکے.
(۱۹۸۴، گرد راہ، ۲۰۱).
شتر غمزے کئے چرخِ خمیدہ پشت نے کیا کیا
شتر آسا مرے نالہ نے اس کی ناک چھیدی پر