میں کہتا تھا کہ اس میں شتر و گُربہ (رطب و یابس) بہت ہے.
(۱۹۰۴، مقالات شروانی، ۷۳).
یہ ناول نثر میں شتر گربہ کی بڑی اچھی مثال پیش کرتا ہے.
(۱۹۸۸، نگار، کراچی (سالنامہ)، ۸۱).
ایک مصرع میں ہو تم دوسرے مصرع میں کہو تو
یہ شتر گربہ ہوا میں نے اسے ترک کیا
اس شعر میں شتر گربہ کا عیب بتایا گیا ہے.
(۱۹۵۰، کیفیہ، ۲۱۷).