ہم شترباں تھے مگر ہرگز شتر کینہ نہ تھے
شیر ہو کر بھیڑ کی سی ساری خصلت ہم میں تھی
وہ بغداد میں ہیں میں مندر میں گُم ہوں
شتر کینہ وہ ہیں تو میں گاؤ دُم ہوں
یہ بھی مری کی ”تنقیدی سوانح“ کی طرح ایک شتر کینہ سابق نیاز مند کی ذہنی کہتری کا ایک بے مثال نمونہ ہے.
(۱۹۸۶، فکشن، فن اور فلسفہ، ۲۷).