ماں باپ کو سمجے جیوں خیال ہو خواب، بھائی تو بچارا کس حساب میں.
(۱۶۳۵، سب رس، ۳).
روزِ شمار کیا ہو مرے ساتھ باز پرس
میں کیا ہوں اور گناہ مرے کِس حساب میں
دیو کی کیا مجال کہ وہاں جائیں اور سلامت پھر آئیں، تو بیچارہ کس شمار و قطار میں ہے.
(۱۸۰۱، آرائش محفل، حیدری، ۵۵).
جاں نثار بیچارہ تو بھلا کس گنتی میں تھا.
(۱۸۸۸، ابن الوقت ،۲۲).
نہیں ہے آپ سے بڑھ چڑھ کے آب و تاب میں چاند
جب آفتاب نہیں ہے تو کس حساب میں چاند