کس واسطے کہ مج کو اتنا ہی چاہیے ہے
جامہ ہو ایک بر میں کھانے کو نیم نان ہو
اے صاحبو تمہارا جدھر جی چاہے ادھر تشریف لے جاؤ کس واسطے کہ اب مجھ کو انیس غم اور جلیس الم کے سوا کوئی نہیں خوش آتا ہے.
(۱۸۱۴، نورتن ، ۲۴).
کس واسطے کہ حضرت جہاں گیر کا نام ایام شہزادگی میں مرزا شیخو بہت مشہور تھا.
(۱۸۴۶، تذکرۂ اہل دہلی، ۴۷).