کس منہ سے اجازت دوں، کس دل سے یہ بات کہوں اے قاسم تجھے کس طرح میدان جاں ستاں میں بھیجوں.
(۱۸۱۲، گل مغفرت ، ۷۱).
حق سے درخواست عفو کی حالی
کیجے کس منہ سے اِن خطاؤں پر
جب میر اور سودا اور غالب تک نہیں بچے تو دوسرا کس منہ سے شکایت کر سکتا ہے.
(۱۹۳۳، خطبات عبدالحق، ۲۴).
سُن آج کی بات کیا کہیں گے مج کو
کس منھ سے دکھاؤں گا منھ ان کو جا کر
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
ہم ہوں کس من٘ہ سے تری چشم کرم کے طالب
حق تری کم نگہی کا کب ادا ہوتا ہے