اپنے کام دوسروں کی امداد یا اوروں کے بھروسے پر نہ چھوڑیں، مثل مشہور ہے کہ کس کی بکری اور کون ڈالے گھاس.
(۱۹۰۶، حکمت عملی، ۱۵۲).
اجی مہربان بندہ خیریت اسی میں ہے یہاں سے چلتے پھرتے نظر آئیے اور اس کو لے جائیے، اس کی ماں کے پاس نہ معلوم کس کا ہے کس کا نہیں کس کی بکری کون ڈالے گھاس، ہم سے واسطہ غرض.
(۱۹۱۵، سجاد حسین، دھوکا، ۱۷).