کیا سمجھ کر، کیا سوچ کر، کیا جان کر، عموعاً اس وقت بولتے ہیں جب کسی کام کے کرنے کو دل نہ چاہتا ہو یا کسی کا کام کرنا اخلاقاً مناسب نہ ہو.
مٹ گئے ہم تو اس نے جب یہ کہا
تو نے شکوے کئے تھے کِس دل سے
(۱۸۹۲، مہتاب داغ ،۲۳۰).
اٹھاؤں شمع کو کیا حسرت و ارماں کی محفل سے
ترے ناوک کو پہلو سے نکالوں بھی تو کس دل سے
(۱۹۳۴، تجلّا ئے شہاب ثاقب، ۱۷۱).
ایسی کتابیں لوگ بیچ کس دل سے دیتے ہیں.
(۱۹۸۸، جب دیواریں گر یہ کرتی ہیں، ۲۰۱).
اہم اطلاع
اردو لغت بائیس ہزار صفحوں پر مشتمل ، دو لاکھ چونسٹھ ہزار الفاظ کا ذخیرہ ہے . اسے اردو زبان کے جیّد اساتذہ نے 52 سال کی عرق ریزی سے مرتب کیا ہے .
زیر نظر ویب سائٹ انسانی کاوش ہے لہذہ اغلاط کے امکانات سے مبرا نہيں ، آپ سے التماس ہے کہ اغلاط کی نشان دہی میں ہماری معاونت فرمائیں .
نشان دہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر رابطہ کے ان باکس میں اپنی رائے سے آگاہ کریں .