میرا جانا یہاں سے لشکر میں میرے لیے ننگ و عار ہے، کہیں کس لیے کہ میں ملکہ تصویر جادو پر عاشق ہوں.
(۱۸۸۲، طلسم ہوشربا، ۱: ۲۱).
ہماری کیا تاب و طاقت جو جواب دے سکیں ، کس لیے حلقہ غلامی کا اپنے کانوں میں ڈال کر آقائے کونین جانتے ہیں.
(۱۸۹۳، کوچک باختر، ۱۶۹).
یہ پوچھا بات کیا ہے کس لیے آنکھوں میں آنسو ہیں
کسی تصویرِ بے جاں کی طرح کیوں چشم و ابرو ہیں