یہ کوشش کی گئی ہے کہ زراعت پیشہ رعیت کا موجودہ قرض بھی چکا دیا جائے .
(۱۹۰۷ ، کرزن نامہ ، ۱۶۲).
تخیّلات کے سارے طلسم ٹوٹ گئے
کھلی ہے آنکھ تو اب قرضِ اعتبار چکا
مسز شمیم نے جیسے قرض چکا کر پوچھا یہ ہار سید نے ایوری کوسٹ سے منگوا کر دیا تھا.
(۱۹۸۶ ، سہ حدہ ، ۱۲).