تمھیں کڑدام کی لیتے وو ایسی ہے چنچل عورت
شرم سٹ کر وو لیوے گی قرض لوگان میں مکڑا کر
جنے مکر لاچار لیا ..
قرض
و دینے کے دل بیچ رکھتا غرض
بسکہ لیا ہوں ہر مہینے قرض
اور رہتی ہے سود کی تکرار
(۱۸۶۹ ، غالب ، د ، ۱۲۶) .
شہاب الدین غوری ... نے ان سے ایک رقم کثیر قرض لی .
(۱۹۰۲ ، علم الکلام ، ۱ : ۶۸) .
کُھلی آنکھوں سے سپنے قرض لے کر
تری تنہائیوں میں رنگ گھولوں