ایک شخص کا دوسرے کے ذمہ قرض ہے اور قرض خواہ نے سفر کرنا چاہا.
(۱۸۶۶ ، تہذیب الایمان (ترجمہ) ، ۴۳۵).
میں باہر نہیں نکلتا کہ قرض خواہ تکلیف دیتے ہیں.
(۱۸۸۹ ، انشائے داغ ، احسن مارہروی ، ۵۴).
اس کے جہیز کا جھومر قرض خواہوں کی نذر ہو گیا.
(۱۹۸۶ ، تیسرا آدمی ، ۱۱۵).