قرضدا اچھے گا تو وہ نیک نام
پھٹے غیب سے قرض اوس کا تمام
کہیں بعضے مومن کوں لیں قرضدار
جو ظالم نے دی ہو غریبوں کوں مار
بادشاہ کو معلوم ہوا کہ وہ قرضدا مرا ہے.
(۱۸۹۷ ، تاریخِ ہندوستان ، ۵ : ۹۰۲) .
جو قرض خواہ خود اپنے قرض دار سے قرضہ وصول کرنے اس پر بادشاہ کی طرف سے کوئی الزام نہیں ہونا چاہیے .
(۱۹۱۳ ، تمدن ہند ، ۲۲۲) .
مینجر سر پر آکر یوں کھڑا ہوگیا تھا جیسے وہ اس کا قرض دار تھا .
(۱۹۸۶ ، تیسرا آدمی ، ۲۸) .