عجب طرح کا یہ مضموں بندھا کہ واہ ہی واہ
سبب جو اس کا بیاں میں کروں خدا گواہ ہے
صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
خدا گواہ نہ تر سیں جو کل ادھوتر کو
ہے آج زیبِ بدن جن کے مخمل و تن زیب
جہانِ وحمت و سرچشمۂ عطا ہے تُو
خدا گواہ کہ میرے لئے خدا ہے تُو
