دیکھ کو مجھ کو جب کہا اس نے
پوچھو کیوں چپ ہے یہ خدا مارا
مرا حال اس خدا مارے سے پوچھو
کہ مجھ سا مورد بیداد و کیں ہو
بہن کوئی نہیں بس میں ہی ہوں ، خدا ماری.
(۱۹۵۰، یاد کی ایک دھنک جلے ،۴۷)
توئی اور بنت چومر ہو گئی خدا ماری
پھوڑ دوں ترے دیدے ، گھورے کا بدلا لوں
[ خدا + مارا ، صغیۂ ماضی(مارنا)].
