کہی شاہ مرے پر خدا کا قہر کیا غیب ہو پوت دریا بہتر
(۱۶۸۷ ، محی الدین نامہ (ق) ، ۸).
غضب میں ڈالدیا اپنے ساتھ جان کو بھی
خدا کا قہر پڑا تجھ پہ کیا بلا آئی
غلام نفس ہیں اور آڑ لیتے ہیں یہ مذہب کی خدا کے قہر سے ڈرتے نہیں مطلب کے شیدائی
(۱۹۴۷ ، کاروانِ وطن ، ۹۸).
