آج سُنیے کہ کوٹھے پر چڑھ کر خدا واسطے کو صلواتیں سنائیں.
(۱۸۸۰ ، فسانۂ آزاد ، ۱: ۳۷ )
ان شامیوں کو پاکسانیوں سے خدا واسطے کا پیار کیوں ہے.
(۱۹۸۳ ، خانہ بدوش ، ۲۲۱ )
وہ میرا محبوب اور رفیق ہے اور بھائی ہے ، دادوں اور ماؤں کے رشتے سے نہیں بلکہ خدا واسطہ کا بھالی ہے.
(۱۹۱۲، نذیر احمد ، مجموعۂ نظم بے نظیر ، ۱۹۴)
