بگڑتے جاتے ہیں لاکھوں ہزاروں بنتے جاتے ہیں
جہاں میں رات دن جاری خدا کا کارخانہ ہے
یہاں ایک عقد کر لیا تھا ایک لڑکا دو لڑکیاں ہوئیں ، خدا کے کارخانے ادھر بیوی مریں لڑکا تو ان کے جیتے جی مر گیا تھا لڑکیاں بھی ایک ہی سال کے اندر گزر گئیں.
(۱۹۲۴ ، اختری بیگم ، ۱۶۱).
