ان بتوں سے نہیں امید خدا ترسی کی
رحم دل ان میں نہیں ایک ، ستمگار ہیں سب
ایک فیل بان نے خدا ترسی کر کے اپنے یہاں ٹہرا لیا.
(۱۹۳۵ ، بیگمات شاہان اودھ ، ۳۹)
شاہد صاحب نے یقیناً خدا ترسی اور دوست کی دوستی کا ثبوت دیا.
(۱۹۸۳ ، نایاب ہیں ہم ، ۶۸)
[ خدا + ترس (رک) + ی ، لاحقۂ کیفیت ]
