سرِ دست اِس کتاب ( شعرالعرب ) کا رِیویو لِکھتا ہوں ، جِس سے شعرالعرب کی داغ بیل پڑ گی.
( ۱۹۰۹ ، مقلات شبلی ، ۲ : ۳۰ )
منٹو اور عصمت چفتائی جیسے باغی ادیبوں کی تحریروں سے اِس انداز کی داغ بیل پڑی جس میں شخصت پر لان٘ڈری میر کلف چڑھانے کی بجائے اُس کے داغ داغ دامن اور تار تار گریبان کے ذریعے منفی سے مُثبت کا تاثر ابھارا جاتا ہے.
( ۱۹۸۲ ، آن٘کھیں ترستیاں ہیں ، ۱۰ ).